MaSooM Studios: Story
Showing posts with label Story. Show all posts
 اور نجات مل گئی
دن کی روشنی میں چوہے اپنے بل سے نہ نکل سکتے تھے اور نہ ہی خوراک تلاش کرسکتے تھے


معصوم سندھو :
کیا آپ جانتے ہیں کہ چوہا بلی کے آتے ہی کیوں بھاگ جاتا ہے․․․ ؟؟؟ بلی کتنے ہی دبے پاؤں کیوں نہ آئے، چوہے کو اس کی آمد کی خبر ہوہی جا تی ہے․․․․ کیا آپ جانتے ہیں بلی کی گردن اندر کو کیوں دھنسی ہوئی ہوتی ہے؟؟ کیا کہا․․․․؟ نہیں جانتے․․․․؟؟ چلیں میں آپ کو بتاتی ہوں!! آج سے کئی سو سال پہلے چوہوں کا ایک خاندان چھوٹے سے بل میں رہائش پذیر تھا۔ دن کی روشنی میں چوہے اپنے بل سے نہ نکل سکتے تھے اور نہ ہی خوراک تلاش کرسکتے تھے، سو سارادن انہیں بھوکا رہنا پڑتا ۔وجہ یہ تھی کہ بلی نہایت آسانی سے انہیں دیکھ لیتی تھی اور شکار بنالیتی تھی ۔ سو چوہے جب رات کو بھی نکلتے تو بھی چھپ چھپا کر نکلتے ۔ بلی کا خوف ان کے سرپر تلوار کی طرح لٹکتا رہتا۔ لیکن وہ کتنی ہی احتیاط کیوں نہ برتتے، بلی ایسے دبے پاؤں آتی کہ انہیں خبر تک نہ ہوتی اور ان کا ایک ساتھی بلی کے لنچ یا ڈنر کی نذر ہوجاتا۔ ایک لمبے عرصے تک وہ خوف کے عالم میں جیتے رہے، ہرروز ان کے ساتھی بلی کی بھینٹ چڑھتے رہے۔ آخر ایک رات بوڑھے چوہے نے اجلاس بلوایا، جس میں چوہا خاندان کا ہر چھوٹا بڑا چوہا شریک ہوا۔ اجلاس ہوا تو بوڑھے چوہے نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہا۔ ”میرے ساتھیو! یہ ڈر ڈر کر جینا بھی کوئی جینا ہے؟ یہ کیسی زندگی ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے پیارے دشمن کے پیٹ کا ایندھن بنتے رہیں اور ہم چپ چاپ سہتے جائیں؟؟“ بوڑھے چوہے کی آواز بلند ہوتی گئی۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ دیگر چوہوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس نے مکاّ ہو ا میں لہرایا اور کہا۔ ”آخر کوئی حد ہوتی ہے ظلم سہنے کی بھی۔ سوچو، میرے ساتھیو، سوچو، کوئی ترکیب سوچو اس عذاب سے نجات پانے کی ، آزاد زندگی گزارنے کی․․․․! “ بوڑھا چوہا خاموش ہوا تو سب سرجوڑ کر بیٹھ گئے۔ آخر ایک چوہا زور سے اچھلا اور بولا۔ ” وہ مارا․․․․!!! ایسی ترکیب سوچی ہے کہ بس․․․“ سارے چوہے یک زبان ہوکر بولے۔ ”وہ کیا ؟“ چوہا کھنکارا، دوبارہ کھنکارام پھر کھنکارا، پھر اپنی گردن سہلاتے ہوئے گویا ہوا۔” ہم ایک گھنٹی بلی کی گردن میں باندھ دیں گے، تو جب وہ آئے گی تو گھنٹی بجے گی اور ہمیں پتا چل جایا کرے گا اور بھاگ جائیں گے!“ سب چوہے خوش سے تالیاں پیٹنے لگے۔ ”واہ بھئی واہ! کیا عمدہ ترکیب ہے!! آپ بڑے ہیں ، آپ ہی بلی کی گردن میں گھنٹی باندھیے۔“ چوہا تیار ہوگیا۔ جب بلی کے آنے کا وقت ہوا تو گھنٹی لے کر بل کے باہر کھڑا ہوگیا۔ باقی چوہے بلی قریب آئی، چوہے کے تو چھکے چھوٹ گئے․․․․ پاؤں کپکپائے، ہاتھ تھرتھرائے،گھنٹی ہاتھ سے چھوٹ گئی، سانسوں دوڑتا بل میں داخل ہوگیا بلی تو شکار کو بچتا دیکھ کر واپس ہولی، مگر چوہے بہادر کا بُرا حال ہوا۔ سب چوہے اس کے اردگرد کھڑے ہوکر قہقہے لگا رہے تھے کوئی تالیاں پیٹ رہا تھا، کوئی سیٹیاں بجارہا تھا، ایک نے تو یہ بھی کہہ دیا۔ بڑا آیا گھنٹی باندھنے والا۔ اگلی رات تمام چوہے پھر سرجوڑ کر بیٹھ گئے۔ اس بار ایک بوڑھے چوہے نے ترکیب بتائی۔ میرے دوستو ، اتفاق میں برکت ہے ناں، اس لیے جیسے ہی بلی آئے گی ، ہم سب اس پر اکھٹے حملہ کردیں گے، اپنے سارے مُردوں کے بدلے چکائیں گے، خوب خوب ماریں گے، ایسا کرنے سے بلی پر ہماری دھاک بیٹھ جائے گی اور دوبارہ ہمیں شکار کرنے کی جرأت نہ کرسکے گی۔“ سارے چوہے خوش ہوگئے اور بلی کاانتظار کرنے لگے۔ جوں ہی بلی آئی سب نے یک بارگی حملہ کردیا کوئی ٹانگ سے چمٹ کر کاٹنے لگا کوئی دُم سے، کوئی پیٹھ سے․․․ بلی نے جو زور لگایا دم جھاڑی پیر جو پٹخا تو ایک چوہا دور جاگرا، دوسرے کا کچومر نکل گیا۔باقی چوہوں نے جو حال دیکھا تو بھگدڑ مچ گئی، سب بل کی طرف بھاگے۔ بلی نے اطمینان سے ایک تگڑاچوہا دبوچا اور چلتی بنی۔ سب چوہے ایک دوسرے کو لعن طعن کرتے، بزدل اور ڈرپوک کے القابات سے نوازتے پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ سوچنے لگے اور سوچتے ہی چلے گئے یہاں تک کہ ایک ننھا سا چوہا بول اٹھا۔ مجھے ایک بڑھیا ترکیب سوجھی ہے، وہ یہ کہ زمین پر گوند پھیلا دی جائے، اور اس میں گوشت کا ایک ٹکڑا رکھ دیا جائے۔ بلی جب گوشت کا ٹکڑا لینے آئے گی تو اس کے پاؤں گوندکی وجہ سے چپک جائیں گے، پھر وہ ہلنے جلنے سے قاصر ہوجائے گی، اور یوں ہم گھنٹی اس کی گردن میں باندھ دیں گے۔“ اب چوہے خوشی خوشی گوند زمین پر پھیلائے ، گھنٹی ہاتھ میں پکڑے بلی کا انتظار کرنے لگے۔ بلی آئی ، سرخ گوشت کا بڑا سا ٹکڑا دیکھ کر اس کی باچھیں کانوں تک چر گئیں، جھٹ سے اس پر لپکی لیکن یہ کیا․․․؟؟ اس کے پاؤں تو گوندل کی دلدل میں دھنستے پھسلتے چلے گئے ۔ جیسے جیسے نکلنے کی کوشش کرتی، ویسے ویسے اس کا جسم مزید گوند میں لتھڑتا جاتا۔ چوہوں نے جو یہ ماجرا دیکھا تو نعرہٴ مستانہ بلند کیا۔ ننھا چوہا لپک کر بلی کی پیٹھ پر چڑھ گیا اور اس کی گردن میں گھنٹی باندھ دی۔ دیر تک چوہے ننھے کے حق میں نعرے لگاتے رہے اور نجات کا جشن مناتے رہے اور بلی کا مذاق اڑاتے رہے․․․․ اور اسی وقت سے چوہے بلی سے نہیں ڈرتے۔ انہیں بلی کے آنے کا دور سے پتا چل جاتا ہے کیوں کہ اس کی گردن میں بندھی گھنٹی بجتی رہتی ہے اور وہ فوراََ ہی اپنے بل میں چھپ جاتے ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ گھنٹی کہاں ہوتی ہے؟ نظر تو نہیں آتی۔ تو جناب آپ بلی کی گردن کو ہاتھ لگائیں، آپ کو وہ اندر کی طرف دھنسی ہوئی محسوس ہوگی۔ یہ اسی پٹے کی علامت ہے جس کے ذریعے سے گھنٹی بلی کے آباء واجداد میں سے ایک کی گردن میں باندھی گئی تھی۔
 اذان کا احترام
سنا نہیں؟ ٹی وی بند کرو“ اب ماما نے تیز آواز میں کہا

اذان کا احترام
محمد ابو بکر ساجد:
”بیٹی مریم ! ٹی وی بند کرو اذان ہورہی ہے“۔ ”اچھا ماما جان ! بند کرتی ہوں“ مریم نے جواب دیا ، مگر ٹی وی چلتا رہا ۔ ”سنا نہیں؟ ٹی وی بند کرو“ اب ماما نے تیز آواز میں کہا۔ ابھی کرتی ہوں ”ریموٹ نہیں مل رہا“ مریم نے کہا۔ اتنے میں فاطمہ کی آواز آئی مجھے ثمرن نے چٹکی کاٹی ہے جبکہ ثمرن چلانے لگی پہلے مجھے فاطمہ نے دھکا دیا۔ (ٹی وی چل رہا ہے)آکر تنگ آکر ماما کچن سے باہر آئیں دیکھا کہ بچے آپس میں دھینگا مشتی کررہے ہیں۔ریموٹ موسیٰ نے پکڑا ہے جو کارٹون دیکھنے کی ضد کررہا ہے۔ اتنی دیر میں اذان بھی ختم ہوگئی۔ ماما اپنا ماتھا پیٹ کر رہ گئیں کہ ان بچوں کو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ اذان کا جواب دیناواجب ہے، یہ تو اللہ کی طرف سے پکار ہے ۔ جب والدین کی آواز پر نہ آنا گناہ ہے تو اللہ کے حکم کو نظر انداز کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ تمام دنیاوی کام کاج چھوڑ کر پہلے اذان کا جواب دیا جائے پھر نماز کا اہتمام کریں، اِسکے بعد دنیاوی کاموں میں دلچسپی لیں۔ میں تمہارے پاپا کو بتاؤں گی کہ تم نے آج کیا کیا؟ رات کو جب اُن کے پاپا آئے تو ماما نے سارا قصہ کہہ سنایا۔ پایا نے بچوں کو اپنے ساتھ بیٹھا کر بتایا؛”پیارے بچو! دنیا میں سب سے زیادہ بلند ہونے والی آواز اذان کی ہی ہے۔ یہ واحد آواز ہے جو ہر لمحہ دنیا میں گونجتی رہتی ہے۔ اِسکا جواب دینے والے پر فرشتے رحمت برساتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جتنا ثواب اذان دینے والے جو ملتا ہے ، اتنا ہی ثواب گھر ، دفتر یا باہر کہیں بھی بیٹھے فرد کو اِس کا جواب دینے سے ہوتا ہے۔ پاپا نے اُنہیں ایک تاریخی واقعہ بھی سنایا”خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی ملکہ زبیدہ نے مکہ شریف اور مدینہ شریف کے درمیان حاجیوں کی سہولت کیلئے ایک نہر کھدوائی تھی۔ خلیفہ وقت نے اُسکا نام ”نہرزبیدہ‘ رکھ دیا تھا ۔ جب ملکہ زبیدہ کا وصال ہو ا تو ایک معزز عورت نے ملکہ کو خواب میں دیکھا اور پوچھا؛”تیرے ساتھ خد ا نے کیا معاملہ کیا؟“ ملکہ نے کہا؛ ”اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا “ ”اس عورت نے پوچھا؛ کیا نہرو زبیدہ کی وجہ سے؟“ ملکہ نے کہا؛ نہیں اذان کے احترام کی وجہ سے ۔ مجھے ایک مرتبہ سخت پیاس لگی تھی، میں نے خادمہ کو پانی لانے کیلئے کہا۔ جونہی خادمہ پانی لائی، اذان شروع ہوگئی۔ میں نے پانی نہیں پیا بلکہ اذان کا جواب دینے لگی۔ بس یہی نیکی میرے اللہ نے قبول فرمالی اور مجھے بخش دیا“ دیکھا بچو! اذان کا احترام اور جواب دینے پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کتنا بڑا انعام دیتا ہے۔ سب بچوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ اذان کا احترام کیا کریں گے۔ میری بھی تمام بچوں سے گزارش ہے کہ اذان کا احترام کیا کریں اور نماز بھی پابندی سے پڑھیں
 اچھی لومڑی
اُسکی خواہش تھی کہ ہر کوئی لومڑیوں سے پیار کرے 

احمد عدنان طارق:
کہیں دور ایک ننھی سی لومڑی رہتی تھی ، وہ اپنا گھر صاف ستھرا کرنے میں ہمیشہ اپنی امی کا ساتھ دیا کرتی تھی۔ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے بھی وہ بہت پیار کرتی تھی اورکبھی اُن سے غصہ نہیں ہوتی تھی۔ اُسکے ابا اُسے کہتے بھی نہیں تھے پھر بھی وہ اُن کے کام بھی دوڑ دوڑ کر کردیتی تھی۔ اُسکے روئیے سے شاید پہلی باریوں لگنے لگا تھا کہ لومڑیاں بھی اچھی ہوسکتی ہیں۔لیکن پھر بھی مسئلہ یہ تھا کہ لومڑیوں کو کوئی اچھا نہیں سمجھتا تھا۔ جس سے اِس ننھی لومڑی جسکا نام نیلو تھا کوبہت صدمہ ہوتا تھا۔ اُسکی خواہش تھی کہ ہر کوئی لومڑیوں سے پیار کرے ۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس صورتحال کو درست کرکے ہی رہے گی۔ یہ کام اُس نے مرغیوں سے شروع کیا۔ جیسے ہی شام ہوئی وہ مرغیوں کے ڈربے کے قریب چلی گئی اور اُنہیں لوری سنانا شروع کردی۔ مرغیوں نے نیلو لومڑی کی آواز سنی تو گھبراگئیں او ر زور زور سے اپنے پر پھڑ پھڑانے لگیں اور غصے سے نیلو سے کہنے لگیں؛” ظالم لومڑی چلی جاؤ یہاں سے ہم تمہیں پسند نہیں کرتیں“۔ نیلو کچھ دیر اُن کے غصے کو برداشت کرتی رہی پھر مایوس ہو کر لوٹ آئی ۔ وہ سوچ رہی تھی کہ جب میں اُن سے بات ہی نہیں کرسکتی تو یہ میری دوست کیسے بنیں گی؟وہ پہاڑی سے نیچے اُتری تو چند میمنوں کا اچھلتا کودتا دیکھا ۔ وہ سونے سے پہلے کا کھیل کھیل رہے تھے۔ وہ بولی ” میمنو․․․․میمنو آؤ میں تمہیں نرم گرم بستر میں سلادوں“ لیکن اُسکی آواز سُن کر میمنے بدک گئے اور زور زور سے اچھلنے کودنے لگے۔ اُن کے زور سے میما نے کی آواز سن کر ایک بوڑھا میڈھا گھر سے نکلا۔نیلو کو وہاں دیکھ کر اُس نے کہا؛”یہاں سے چلی جاؤ ورنہ میں تمہیں اپنے سینگ ماردوں گا“ نیلو بولی؛” میں اِنہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتی، میں تو اِنہیں اپنا دوست بنانا چاہتی ہوں “ مینڈھے نے غصے سے جواب دیا” لیکن وہ تو تمہیں اپنا دوست نہیں بنانا چاہتے ، تم تو پہلے ہی اِن میں سے کئی ایک کو ہڑپ کر چکی ہو“نیلو یہ بات سن کر سخت شرمندہ ہوئی وہ دل میں خود کو کہنے لگی کہ وہ تو سبزی خور ہے، وہ میمنے کیسے کھا سکتی ہے ۔ نیلو کو معلوم ہو رہا تھا کہ وہ بہت مشکل کام کرنے گھر سے نکلی ہے۔وہ تھوڑا اور آگے گئی تو کچھ دور میدان میں اُس نے خرگوش کے بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا تو وہ دوڑ کر اُن کے پاس پہنچ گئی اور اُن سے کہنے لگی” بچو آؤ میں تمہیں پیار سے سلادوں“ چھوٹے بچے اُسے دیکھ کر اتنا ڈرے کہ دوڑنے کی بجائے وہ وہیں پھدکنے لگے اور چیخنے چلانے لگے۔ اُن کی مائیں بھی بہت خوفزدہ تھیں۔ وہ چلائیں ”کم بخت لومڑی ! دیکھو کیسے اسکے منہ میں پانی آرہا ہے ۔ ہمارے بچوں کو چھوڑ دو“ اُن بیچاری ماؤں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بیچاری نیلو پیچھے ہوگئی اور کہنے لگی” میں انہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتی لیکن کوئی اس بات کو نہیں سمجھتا“ ۔ جب کچھ بن نہ پڑا تو بیچاری نیلوگاؤں کی طرف چل دی۔ راستے میں اُسکے ہم عمر لومڑی کے بچے ملے۔ اُنہوں نے نیلو کو آواز دی اور کہنے لگے”نیلو ہمارے ساتھ چلو، ہم گاؤں میں چھایا مارنے جارہے ہیں“ نیلو نہ انہیں ہنستا مسکراتا دیکھا تو وہ بھی اُن کے ساتھ ہولی۔ سب نے ملکر گاؤں میں گھروں میں گھس کر کوڑے والی کئی ٹوکریاں اُلٹا دیں اور خوب گندڈالا وہ بہت دلبرداشتہ تھی۔ اُس نے سوچا وہ شرارت کیوں نہ کرے۔ ویسے بھی کوئی لومڑیوں کو پسند نہیں کرتا۔ لہذا اُس نے سب سے ملکر چیزیں بھی چرائیں۔ لیکن جب وہ لوٹے تو وہ دل ہی دل میں شرمندہ تھی۔ وہ اس طرح کبھی بھی لومڑیوں سے نفرت کر کم نہیں کرسکتی تھی۔ اُسکے ساتھی اپنے اپنے بھٹوں میں لوٹ گئے اور وہ تنہا سڑک پر بیٹھ کر سوچنے لگی۔ تبھی اُس نے چچا عقلمند کو آتے ہوئے دیکھا جو وہاں کے ویرانے کے تنہا الو تھے۔ سب اُنہیں اُن کی بزرگی کی وجہ سے پسند کرتے تھے۔ اب اُنہیں اُن کی بزرگی کی وجہ سے پسند کرتے تھے۔ چچا عقلمند اپنی گردن کو چاروں طرف گھماتے ہوئے بولے؛ ”سب لوگ لومڑیوں کو بُرا سمجھتے ہیں، تمہیں اُن کو سمجھانا ہوگا کہ سب لومڑیاں خراب نہیں ہوتی ہیں اور کچھ نہیں تو گاؤں صاف کرنے میں میری مدد کرو“ اُن کے کہنے گاؤں جو خود لومڑیوں نے ہی گندہ کیا تھا، بیچاری نیلو نے بابا عقل مند کے ساتھ دوڑ دوڑ کر صاف کیا۔ کہیں جھاڑ و پھیرا ، کہیں پوچہ لگایا پھراگلے دن نیلو نے سوچا کہ کیوں نہ وہ سب جانوروں کو دعوت پر بلائے۔ اُس نے سب کو دعوت نامے بھجوائے۔ جلد ہی ایک ایک کرکے جانور آنے لگے۔ نیلو نے اُنہیں خوش آمدید کہا پھر اُن کے ساتھ مختلف کھیل کھیلے پھر سب نے اکھٹے چائے پی۔ واپس جاتے وقت سب کو تحفے دیئے گئے ۔ چچا عقلمند ، مرغیاں بطخیں، خرگوش، میمنے سب دل سے کہہ رہے تھے کہ انہیں بہت مزاآیا۔ ابھی تک یہ بات تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ جانور سب لومڑیوں کو پسند کرنے لگے ہیں لیکن سب کا خیال ہے کہ نیلو بہت اچھی ہے او ر نیلو بھی سمجھتی ہے کہ اچھائی سے دل جیتے جاسکتے ہیں تو چلیں یہ بارش کا پہلاقطرہ ہی سہی۔
 خود پے بھروسہ
آج اس باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ یہاں آیا تھا او ر اُس سے کہہ رہا تھا کہ اب پھل توڑنے کا زمانہ آگیا ہے ، کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور اُن کی مدد سے اِس درخت کے پھل توڑوں گا

معصوم سندھو :
کسی باغ کے ایک گھنے درخت پر ایک فاختہ نے اپنا گھونسلہ بنایا ہوا تھا جس میں وہ دن بھر اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی اور اُن کو دانہ دنکا بھی چگاتی تھی ۔ وہ بہت خوش تھی کیونکہ اب اُن بچوں کے بال وپر بھی نکلنے لگے تھے۔ ایک روز فاختہ کو اُسکے بچوں نے بڑی پریشانی کے عالم میں یہ بتایا؛ ” ماں ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارا گھونسلہ برباد ہونے والا ہے ، آج اس باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ یہاں آیا تھا او ر اُس سے کہہ رہا تھا کہ اب پھل توڑنے کا زمانہ آگیا ہے ، کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور اُن کی مدد سے اِس درخت کے پھل توڑوں گا۔ میرے بازو میں تکلیف ہے اسلئے یہ کام تنہا نہیں کرسکتا، مجھے اپنے دوستوں کی مدد کی ضرورت ہوگی“ یہ سُن کو فاختہ نے بچوں کو تسلی دیت ہوئے کہا؛ ”فکر مت کرو وہ کل اپنے دوست کے ساتھ نہ یہاں آئے گا اور نہ ہی پھل توڑے گا۔“ اور پھر واقعی ایسا ہی ہوا باغ کا مالک نہ خود آیا اور نہ اُسکا دوست وہاں پہنچا۔ اسی طرح کئی روز گزر گئے تو ایک روزوہ پھر باغ میں آیا۔ اُس وقت بھی فاختہ اپنے بچوں کے پاس نہیں تھی۔ اُس نے درخت کے نیچے کھڑے ہوکر کہا”میرے دوستوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ، اسلئے میں یہاں سے پھل نہیں توڑسکا مگر کل میں یہ کام ضرور کرڈالوں گا کیونکہ اس بارانہوں نے آنے کا پکا وعدہ کیا ہے“ جب فاختہ واپس لوٹی تو اُسکے بچوں نے یہ بات فاختہ کو بتائی تو اس نے بے پرواہی سے کہا” بچو تم پریشان نہ ہو کیونکہ اس بات بھی نہ وہ خود آئے گا اور نہ اُسکے دوست آئیں گے“غرض اِسی طرح یہ دن بھی گزر گیا اور فاختہ کے کہنے کے مطابق نہ باغ کا مالک وہاں آیا اور نہ ہی اُسکا کوئی دوست۔ فاختہ کے بچے اب کچھ زیادہ ہی مطمئن ہوگئے تھے۔ چند روز بعد باغ کا مالک اپنے بیٹوں کے ساتھ وہاں پہنچا اور درخت کے نیچے کھڑے ہوکر بال ؛ ”میرے دوست صرف نام کے دوست ہیں ، انہیں مجھ سے کوئی ہمدردی نہیں۔ ابھی تک کئی بار وعدے کرکے ٹال گئے لیکن اب مجھے اُن کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود ہی کل تم سب کے ساتھ مل کر اس درخت کے پھل توڑوں گا۔ ویسے بھی مجھے دوسروں پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنے آپ پر بھروسہ کرنا چاہیے، اسی میں بہتری ہے“ جب فاختہ نے یہ بات سنی تو وہ پریشانی کے عالم میں بولی” بچواب ہمیں فوری طور پر یہاں سے جانا ہوگا۔ جب تک باغ کا مالک دوسروں پر بھروسہ کر رہا تھا ،اُسکا کام نہیں ہورہا تھا مگر آج اُس نے خود پر بھروسہ کرتے ہوئے خود ہی پھل توڑنے کا ارادہ کیا ہے تو وہ ضرور کامیاب ہوجائے گا، اسلئے اب ہمیں یہاں سے جانا ہی ہوگا، پھر وہ اپنے بچوں کو ساتھ لے کر وہاں سے پرواز کرگئی۔
پرندوں کا بادشاہ
کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں پرندے انسانوں سے زیادہ عقل مند ہواکرتے تھے۔ اُنہیں کسی بادشاہ کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی وزیروں کی جو بادشاہ کو مشورے دیتے ،نہ ہی انہیں پرندوں کے کسی ایسے جرگے کی ضرورت تھی ،جو مل بیٹھ کر اُن کیلئے قانون بناتے۔

                            معصوم سندھو     :
کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں پرندے انسانوں سے زیادہ عقل مند ہواکرتے تھے۔ اُنہیں کسی بادشاہ کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی وزیروں کی جو بادشاہ کو مشورے دیتے ،نہ ہی انہیں پرندوں کے کسی ایسے جرگے کی ضرورت تھی ،جو مل بیٹھ کر اُن کیلئے قانون بناتے۔ اُن دنوں میں جب بھی پرندے اکٹھے ہوتے تو وہ ایک دوسرے سے خوشی خوشی گپیں ہانکتے اور بتاتے کہ کون پیدا ہوا ہے اور کون مرگیا ہے؟ کون سے پرندے کے بچے یتیم ہوگئے ہیں اور وہ قوانین بنانے کی بجائے اہم مسائل ایک دوسرے کو بتا دیتے تھے۔ اُن کا قانون ایک ہی تھا، محبت اور دوستی کا قانون۔ نہ انہیں نفرت کا علم تھا اور نہ غصے کا لیکن پھر ایک مکار اُن کے علاقے میں داخل ہوگیا۔ اُس نے اردگرد جائزہ لیا پرندوں کی خوشیوں کا دشمن تھا۔ اس نے مور سے کہا؛ تم اپنے آپ کو عام سا پرندہ کیوں سمجھتے ہو حالانکہ تم باقی سب پرندوں سے زیادہ خوبصورت ہو۔ “ موڑ اسکی لچھے دار باتوں میں آگیا اور بڑے فخر سے خود کو تالاب کے پانی میں دیکھنے لگا۔ 
پھر وہی شخص عقاب کے پاس گیااور اُسے کہنے لگا“ تم یہ مریل سے پرندے کوئل کو اپنا دوست کیوں سمجھتے ہو، کیا تم باقی سب پرندوں سے زیادہ طاقتور نہیں ہو؟ تم بادلوں سے بھی اوپر اُڑنے والے ہو تم آسانی سے اپنی چونچ سے اسکے ٹکڑے کر سکتے ہو۔ “ عقاب اُسکی باتوں میں آگیا وہ اُڑکر گیا اور اپنی چونچ اور پنجوں سے کوئل کو گھونسلہ تہس نہس کرآیا۔ اِس طرح آہستہ آہستہ وہ مکار پرندوں کے بیچ دشمنی کے بیج بونے میں کامیاب ہوگیا۔ پرندوں کی پُر امن سلطنت جنگ کا میدان بن گئی۔ پرندے ایک دوسرے سے لڑنے اور گالیاں دینے لگے۔ آخر کار طاقتور پرندے کمزور پرندوں کو شکار کرنے لگے۔ ہر کوئی اپنی طاقت پر ناز کرنے لگا اور کمزوروں کو برا بھلا کہنے لگا۔ ایک دن ایک ننھے سے پرندے نے سب چھوٹے پرندوں سے کہا؛ ”ہم اس طرح زندگی نہیں گزار سکتے۔“ وہ سبھی عقاب کے پاس چلے گئے اور اُسے کہا؛ ”ہمیں انصاف چاہیے، آپ سب سے طاقتور پرندے ہو بہتر ہو سب پر حکومت کریں تاکہ کوئی کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرسکے۔ “عقاب خوشامد پسند تھا، فوراََ مان گیا لیکن پرندوں کے جانے کے بعد وہی مکا ر عقاب کے پاس آیا اور اُسے کہا؛ ” بادشاہ تو ہوتے ہی عوام سے خدمت کرانے کیلئے ہیں، تمہارے پاس وقت کہا ں کہ تم اُن احمقانہ لڑائیوں میں صلح کرواتے پھرو بہترہے تم اُلو کو انکا بادشاہ بنادو۔ اُس کی آنکھیں قیمتی پتھروں جیسی ہوتی ہیں، وہ صرف رات کو دیکھ سکتا ہے اور جب روشنی میں دوسرے پرندے ہواؤں میں پرواز کرتے ہیں تو وہ کچھ نہیں دیکھا سکتا۔ اسلئے وہ کسی کے معاملے میں دخل نہیں دے گا اور ہر کوئی وہی کرے جو اُس کا دل چاہے گا۔“ عقاب کر یہ ترکیب بہت اچھی لگی، اُس نے اُلو کو پرندوں کا بادشاہ بنا دیا۔ اُلو دن کو سویا رہتا ہے اور رات کو جاگتا ہے جب باقی پرندے مزے سے اپنے گھونسلوں میں سوئے ہوتے ہیں تبھی تو آج تک وہ پرانے امن والے دن پرندوں کی سلطنت میں نہیں لوٹے اور وہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔
بُری عادت کی سزا
کسی شہر میں ایک بچہ محمد ادریس احمد رہتا تھا۔ وہ بہت نیک اور فرماں بردار بچہ تھا۔ سکول میں اُسکا ایک ہی دوست تھا جس کا نام سمیع تھا۔وہ بہت ذہین تھا مگر اُس میں ایک بُری عادت تھی کہ وہ چوری کرتا تھا۔ اِس بات کا علم صرف محمدادریس احمد کو تھا۔

                                   معصومسندھو:
کسی شہر میں ایک بچہ محمد ادریس احمد رہتا تھا۔ وہ بہت نیک اور فرماں بردار بچہ تھا۔ سکول میں اُسکا ایک ہی دوست تھا جس کا نام سمیع تھا۔وہ بہت ذہین تھا مگر اُس میں ایک بُری عادت تھی کہ وہ چوری کرتا تھا۔ اِس بات کا علم صرف محمدادریس احمد کو تھا۔ وہ سمیع کو بہت سمجھاتا تھا کہ چوری کرنا بری عادت ہے لیکن وہ ہمیشہ ہی سنی اَن سنی کردیتا۔سمیع کو چوری کی عادت اس طرح پڑی کہ ایک مرتبہ محمد ادریس احمد نے سکول سے چھٹی کی،سمیع نے اپنے کلاس فیلو جس کا نام حنیف تھا کو اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ سمیع کو حنیف کا پنسل باکس بہت پسند آیا تو اُس نے چپکے سے حنیف کا پنسل باکس اپنے بیگ میں ڈال لیا۔ جب حنیف کو پتا چلا کہ اُس کا پنسل باکس گم ہوگیا ہے تو اُس نے سمیع سے اُسکے بارے میں میں پوچھا۔ سمیع نے کہا؛”اُسے علم نہیں ہے کہ اُسکا پنسل باکس کہا ں ہے“۔اِس کے بعد سمیع نے سوچا کہ اگر وہ چپکے سے کسی کی چیز کو اپنے پاس رکھ لے گا اور بعد میں تھوڑا ساجھوٹ بول لے گا تو اُسکے پاس بہت سی چیزیں جمع ہو جائیں گی۔ پھر اس نے باقاعدہ چوری کرنا شروع کردی۔ سمیع اب اکثر اپنے دوستوں کی چھوٹی موٹی چیزیں چُرا لیتا تھا۔ محمد ادریس احمد نے اُس کو بہت سمجھایا مگر اُس نے محمد ادریس سے بھی دوستی ختم کردی۔ اب اُس نے خراب لڑکوں میں بیٹھنا شروع کردیا تھا۔ یہ لڑکے بڑی چوریاں کرنے لگے تھے ۔ اب انہوں نے ایک منصوبہ بنا یا کہ وہ بینک لوٹیں گے۔ یہ اُن کی بدقسمتی تھی کہ جیسے ہی وہ بنک لوٹنے پہنچے تو پولیس کی موبائل بھی وہاں آگئی۔ سمیع اور اُسکے ساتھیوں نے پولیس کو دیکھ کر اُن پر فائرنگ شروع کردی۔ اِس فائرنگ سے سمیع کا ایک ساتھی اور ایک پولیس کانسٹیبل بھی مارا گیا۔ آخر کار پولیس نے سمیع اور اُسکے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا۔ جب پولیس نے سمیع سے تفتیش کی تو اُس نے بتایا کہ وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہے۔ زیادہ لاڈ پیار کی وجہ سے بگڑ گیا اور آہستہ آہستہ عادی مجرم بن گیا۔ سمیع کا مقدمہ عدالت میں چلا تو عدالت نے اُس کو پھانسی کی سزا سنائی۔ محمد ادریس احمد نے جب یہ سارا واقعہ سناتو وہ سمیع سے ملنے جیل گیا اوراُس سے کہا کہ دیکھو میں تمہیں کتنا سمجھاتا تھا مگر تم نے میری بات نہیں سنی اور آج اِس کا انجام دیکھ لیا۔ اب سمیع اپنے کئے پر شرمندہ تھا۔ لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔

خوشامد بُری بلا ہے
ایک ہرے بھرے جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے۔جنگل کا شیر بوڑھا اور عقلمند تھا جسکی وجہ سے سبھی جانور پُرسکون زندگی بسر کررہے تھے۔جانوروں کی آپس میں علیک سلیک اور دوستی بھی تھی جب فارغ ہوتے تو خوب گپ شپ ہوتی۔
معصوم سندھو 
ایک ہرے بھرے جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے۔جنگل کا شیر بوڑھا اور عقلمند تھا جسکی وجہ سے سبھی جانور پُرسکون زندگی بسر کررہے تھے۔جانوروں کی آپس میں علیک سلیک اور دوستی بھی تھی جب فارغ ہوتے تو خوب گپ شپ ہوتی۔لومڑی اور بھڑیا بچپن سے دوست تھے،جب ملتے خوب باتیں ہوتیں۔ایک دن سرراہ اُن کی ملاقات ہوئی تو بھیڑیے نے کہا ۔بی لومڑی اب جنگل کا شکار کم ہورہا ہے،حضرت انسان نے شکار کر کر کے ہم جانوروں پر بڑا ظلم کیا ہے،اب مجھے دیکھو بھوکا ہوں بھیڑ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ۔اب تو جنگل کے اردگرد بھی بھیڑیں کم ہوگئی ہیں،کھانے کو ترس گیا ہوں کہیں بھی شکار․․․․․․
کیا مطلب؟شکار نہیں ملتا․․․․․․اگر عقل ہوتو شکار بہت ہے․․․․․
بی لومڑی․․․․․اب جانور بہت ہوشیار ہوگئے ہیں،اتنا ڈرتے ہیں کہ انسان کو دیکھ کر چھپتے پھرتے ہیں،ہمیں دیکھ کر ادھر اُدھر ہوجاتے ہیں۔اب توٹی وی کیبل نے اتنا ہوشیار کردیا ہے کہ فوراََ ہی مس کال کرکے ہوشیار کردیتے ہیں ،اب تو ٹویٹر اور وائی فائی اور فیس بک بھی جانوروں کی دسترس میں ہیں۔
اچھا آؤ ٹرائی کرتی ہوں،لومڑی نے بھیریے کو ساتھ لیا اور ندی کی طرف چل پڑی وہاں دیکھا کہ مرغابیاں اور دوسرے جانور پانی میں تیر رہے تھے،اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔لومڑی نے بھیڑیے کو جھاڑیوں میں چھپا دیا اور مرغابیوں کی طرف بڑھ گئی۔لومڑی نے مسکراتے ہوئے مرغابی سے کہا․․․․․کیسی ہو میری دوست؟
اچھی ہوں بی لومڑی آج خیر ہے۔تمہاری چالاکی کے بڑے قصے سن رکھے ہیں آج تمہارا دوست بھیڑیا نظر نہیں آرہا؟وہ جھاڑی میں بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے کہ مان نہیں سکتا․․․․․لومڑی نے مکاری سے کہا۔
وہ کہہ رہا ہے میں مان نہیں سکتا․․․․․وہ کیا کہہ رہا ہے؟مرغابی نے حیرانی سے پوچھا،چھوڑو میری فرینڈ مرغابی․․․․وہ بھیڑیا ہے،اُسکا کیا کہنا․․․․․بی لومڑی نے کہا پھر بھی وہ کیوں جھاڑی میں چھپا بیٹھا ہے؟مرغابی نے حیرت سے پوچھا۔
اصل میں وہ کہہ رہا ہے کہ مرغابی کے پر بڑے سخت ہوتے ہیں،اگر اس کا تکیہ بنایا جائے تو کوئی اُس پر سو نہیں سکتا مگر میں کہتی ہوں تمہارے پر نرم ہوتے ہیں،خوبصورت ہوتے ہیں ان کا تکیہ بڑا نرم ہوتا ہے۔
تمہارا دوست بھیڑیا غلط کہتا ہے میرے پر واقعی نرم و نازک ہوتے ہیں۔مرغابی نے گردن پانی میں ڈال کر نکالی۔ہاں یہی بات میں نے بھیڑیے سے کہی تھی مگر وہ مانتا نہیں،کہتا ہے مرغابی کے پر اتنے نرم نہیں ہوتے جتنا کہ سمجھ لیا گیا ہے یہ کہہ کر لومڑی واپسی کو مڑی۔
اُسے بتاؤ کہ میرے پر سب سے نرم ہوتے ہیں مرغابی نے اونچی آواز سے کہا اور پانی میں غوطہ لگایااور دو چار گز دور جا نکلی اپنے پڑوں کو جھاڑا۔
میں اُسے بتا دیتی ہوں کہ تمہارے پر․․․․لومڑی واپس مڑی تم ایسا کر و کہ ایک پر مجھے دیدو تاکہ اُسے چھو کر اُسے یقین ہوجائے۔ٹھیک ہے میں تمہیں اپنی دم کے چند پر دیتی ہوں یہ کہہ کر مرغابی اپنے نرم پر دینے کیلئے جونہی لومڑی کی طرف بڑھی لومڑی نے اُسے دبوچ لیا اور دو چار نوالوں میں ہڑپ کرگئی اور اُسکے نرم ونازک پروں کا تکیہ بنا کر بیٹھ گئی۔
بھیڑیا یہ سب حیرت سے دیکھ رہا تھا،لومڑی بولی دیکھا تمہیں یہاں ہر وقت شکار مل سکتا ہے،بس عقل استعمال کرنے کی ضرورت ہے․․․کیا سمجھے․․․․․؟
یہ سن کر بھیڑیا جھاڑی کی اوٹ سے نکلا اپنے جسم پر مٹی اور کیچڑ لگا کر ندی کی طرف بڑھ گیا۔اپنے جسم کو پانی سے صاف کرتے ہوئے ایک مرغابی سے باتیں کر رہا تھا کہ میری فرینڈ لومڑی کا کہنا ہے․․․․
وہ کیا کہتی ہے؟مرغابی نے حیرت سے پوچھا۔
”میری دوست لومڑی کہتی ہے کہ مرغابی کے پر بہت سخت ہوتے ہیں کچھ دیر بعد لومڑی کو پھڑ پھڑاہٹ کی آواز آئی اور لومڑی سمجھ گئی کہ اس کے دوست نے بھی وہی حربہ استعمال کیا ہے”سچ ہے کہ خوشامد بُری بلا ہے“۔

میمنے کا بھائی
اس میمنے کی کہانی تو آپ نے سنی ہوگی جوندی پہ پانی پینے آیا تھا ۔وہاں سے کچھ فاصلے پر ایک بھیڑیا بھی پانی پی رہا تھا۔ابھی میمے نے چند گھونٹ ہی پیے تھے کہ بھیڑیا اس کی طرف آیا اور بولا”تم پانی گنداکیوں کر رہے ہو دیکھتے نہیں میں پانی پی رہا ہوں۔“
معصوم سندھو 
اس میمنے کی کہانی تو آپ نے سنی ہوگی جوندی پہ پانی پینے آیا تھا ۔وہاں سے کچھ فاصلے پر ایک بھیڑیا بھی پانی پی رہا تھا۔ابھی میمے نے چند گھونٹ ہی پیے تھے کہ بھیڑیا اس کی طرف آیا اور بولا”تم پانی گنداکیوں کر رہے ہو دیکھتے نہیں میں پانی پی رہا ہوں۔“
میمنے نے ڈرتے کہا”جناب پانی تو آپ کی طرف سے میری طرف آرہا ہے۔“
بھیڑیا گرج کر بولا”تم نے پچھلے سال مجھے گالیاں کیوں د ی تھیں؟“
جناب پچھلے سال تو میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔میری عمر تو ابھی صرف چھ مہینے ہے۔“
”پھر وہ تمہارا بھائی یا باپ ہوگا۔“بھیڑیے نے کہا اور مہنے پر حملہ کرکے اسے چیڑ پھاڑ ڈالا۔
”لیکن دوستو! یہ کہانی اس میمنے کی نہیں اس کے چھوٹے بھائی کی ہے۔وہ اکثر اپنی ماں سے اپنے بڑے بھائی کی بابت پوچھتا تو اس کی ماں اسے یہ کہانی سناتی اور ساتھ ہی تاکید کرتی کہ ندی پہ پانی پینے نہ جانا۔“
”تو پھر میں کہاں پانی پیئوں؟“وہ پوچھتا ”یہاں تو صرف ایک ہی ندی ہے۔“
”تم اس وقت پانی پی لیا کرو جب بھیڑیا اور دوسرے بڑے جانور وہاں نہ آتے ہوں۔“اس کی ماں کہتی ندی پہ پانی پینے جانور عموماََ صبح اور شام کے وقت آتے تھے اس لیے میمنا دوپہر کے وقت پانی پی آتا ۔لیکن دوستو !کہتے ہیں ہونی ہوکے رہتی ہے۔میمنے کا سامنا بھیڑیے سے ہونا تھا سوہوکررہا۔ہوا اس طرح کہ ایک دوپہر میمنا ندی پہ پانی پی رہا تھا کہ اسے دوسری طرف سے بھیڑیا اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔
میمنا سنبھل کر کھڑا ہوگیا۔
”تم پانی کیوں گندا کررہے ہو؟دیکھتے نہیں میں پانی پی رہا ہوں۔“بھیڑیے نے حسب روایت چالاکی سے کہا۔
”لیکن جناب پانی تو آپ کی طرف سے میری طرف آرہا ہے“۔میمنے نے کہا۔
تم نے پچھلے سال مجھے گالیاں کیوں دی تھیں؟“۔بھیڑیے نے پرانی چال چلی
”جناب وہ میں نہیں میرا بڑا بھائی تھا اور آپ نے اس بے چارے کو ناکردہ گناہ میں پھاڑ کھایا تھا۔“میمنے نے ندی کے کنارے کی طرف کھسکتے ہوئے کہا۔
”میں تمہارے ساتھ بھی وہی سلوک کرنے لگا ہوں“۔بھیڑیے نے دانت نکوس کر کہا اور میمنے پر چھلانگ لگادی۔میمنا پھرتی سے جھکائی دے کر ایک طرف ہٹ گیا۔بھیڑیا اپنی ہی جھونک میں اڑتا ہوا ندی میں جاگرا۔برسات کے دن تھے ندی میں ظغیانی آئی ہوئی تھی۔بھیڑیے نے تیر کر کنارے پہ آنے کی بہت کوشش کی مگر پانی کا تیز بہاؤ اسے دور بہالے گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے بھیڑیا پانی میں ڈوب گیا۔
چھوٹا میمنا آرام سے چلتا اپنے گھر پہنچ گیا۔”ماں میں نے بھیڑیے کو پانی“۔میں گرادیا ہے اس نے اپنی ماں سے کہا اور پھر ساری روداد سنادی۔
ماں نے حیرت اور خوشی سے اسکی طرف دیکھا اور پھر آگے بڑھ کر اپنے بہادر بیٹے کا منہ چوم لیا۔


دوست بنے دشمن
جب یہ دنیا آباد ہوئی تھی تو جانور ایک دوسرے کی بولی نہ صرف سمجھ سکتے تھے،بلکہ بول بھی سکتے تھے۔وہ دوستوں کی طرح بڑی محبت سے رہتے تھے۔دنیا امن کی جگہ تھی۔اور سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔کتا،بلی اور چوہا بڑی محبت سے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔وہ اکٹھا کھاتے،پیتے،ساتھ رہتے اور ایک دوسرے کی خوشیوں اور تکلیف میں شامل ہوتے،پھر ایک دن ایک غیر متوقع واقعہ کیا پیش آیا کہ سب کچھ ہی بدل گیا۔
معصوم سندھو جب یہ دنیا آباد ہوئی تھی تو جانور ایک دوسرے کی بولی نہ صرف سمجھ سکتے تھے،بلکہ بول بھی سکتے تھے۔وہ دوستوں کی طرح بڑی محبت سے رہتے تھے۔دنیا امن کی جگہ تھی۔اور سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔کتا،بلی اور چوہا بڑی محبت سے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔وہ اکٹھا کھاتے،پیتے،ساتھ رہتے اور ایک دوسرے کی خوشیوں اور تکلیف میں شامل ہوتے،پھر ایک دن ایک غیر متوقع واقعہ کیا پیش آیا کہ سب کچھ ہی بدل گیا۔
ایک دن کتا گھر آیا تو اُس کے پاس ایک ہڈی تھی۔بلی اور چوہا دونوں اس وقت گھر پر نہیں تھے،کیوں کے دونوں ہی کچھ کھانے پینے کی چیز ڈھونڈنے گئے تھے۔کتے نے ابھی ہڈی زمین پر رکھی ہی تھی کہ اُسے ایک آواز سنائی دی۔وہ تیزی سے باہر کی طرف لپکا۔اُسے شک ہوا تھا کہ اس کا مالک کہیں تکلیف میں نہ ہو یا پھر اُسے اس کی ضرورت نہ ہو۔ابھی کتے کو گئے چند لمحے بھی نہ ہوئے تھے کہ بلی تھکی ہاری خالی ہاتھ کمرے میں داخل ہوئی۔اُس نے نے ہڈی فوراََ اپنے قبضے میں کی اور کوئی جگہ ڈھونے لگی تاکہ ہڈی کو چھپا سکے۔ڈھونے کے دوران اُسے زمین میں ایک سوراخ نظر آیا۔وہ کچھ دیر تک سوچتی رہی،پھر اُس نے سوراخ میں ہڈی چھپانے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے مکان کی چھت کی طرف دیکھا اور پھر تیزی سے وہ مکان کی چھت پر پہنچ گئی۔
بلی دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھی کہ جب رات آئے گی تو تینوں دوست مل کر مزے اُڑائیں گے اور خوب ہلا کریں گے۔
کتا جب واپس آیا تو اُسے ہڈی کہیں بھی نظر نہیں آئی۔اُس نے سارے ہی کمروں میں ہڈی کو ڈھونڈا،مگر اُس کی تلاش بے فائدہ رہی،اسی دوران چوہا بھی خالی ہاتھ گھر واپس آگیا۔دونوں نے مل کر گھر کا کونا کونا چھان مارا،مگرہڈی کو نہ ملنا تھا نہ ملی۔دونوں نے ہار نہیں مانی اور اپنی تلاش جاری رکھی۔چوہے اور کتے کو اچانک چھت پر بلی کی جھلک نظر آئی تو دونوں کا ماتھا ٹھنکا۔ضرور کوئی گڑبڑ تھی۔ہڈی کی جھلک نظر آئی تو دونوں کو شک ہوا کہ بلی نے ہڈی کو اکیلے ہی اکیلے ہڑپ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔چوہا جسامت میں بڑا اور طاقت ور تھا۔اس نے دور لگائی اور تھوڑی ہی دیر میں وہ بلی کے پاس پہنچ چکا تھا۔اُس نے بے چاری بلی کو صفائی کا موقع دیے بغیر ہی اُس کی دُم پر حملہ کر دیا۔
چوہے کے پے در پے حملوں سے بچتے ہوئے بمشکل بلی کہہ سکی:”میرے دوست!میری بات تو سنو میں ایک اچھے مقصد کے تحت یہ ہڈی اوپر چھت پر لائی تھی۔“
چوہا سخت غصے میں تھا۔بلی کی ٹانگ کو منھ میں دباتے ہوئے بولا:”مجھے تمھاری کوئی بھی دلیل متاثر کرنے والی نہیں۔تم نے خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہڈی چرانے کی کوشش کی ہے۔“
بلی اورچوہے کے بیچ یہ لڑائی جاری تھی کہ اس دوران ہڈی پھسل کر چھت سے نیچے گر گئی۔ہڈی دیکھتے ہی کتا تیزی سے اس کی طرف لپکا۔ہڈی منھ میں دباتے ہی وہ مکان کے پائیں باغ کی جانب دوڑ پڑا۔
کتا پائیں باغ میں بیٹھا ان دونوں کا انتطار کرنے لگا۔اُسے یقین تھا کہ جلد ہی وہ تینوں کسی فیصلے پر ضرور پہنچ جائیں گے کہ ہڈی کی تقسیم تینوں دوستوں میں کسے ہو۔وہ دونوں کتے کو ڈھونڈتے رہے۔
جب کچھ دیر ہو گئی تو کتے کو بھوک ستانے لگی،اُس نے یہ سوچا کہ وہ اپنا حصہ کھا کر،بلی اور چوہے کو حصہ چھوڑ دے گا۔
بلی جب مکان کے پائیں باغ میں پہنچتی ہے تو کیا دیکھتی ہے کہ کتا مزے سے ہڈی چبا رہا ہے۔وہ ایسے ہی سخت غصے میں تھی،بلا سوچے سمجھے کتے پر جھپٹ پڑی۔دونوں میں زور سے لڑائی ہونے لگی۔دونوں ایک دوسرے کو کاٹنے اور بھنبھوڑنے لگے۔چوہا الگ تاک میں تھا کہ ہڈی نیچے گرے اور میں لے بھاگوں۔وہ کبھی بلی کی ٹانگ دبوچتا تو کبھی کتے کی دُم منھ میں دبا لیتا۔اُن کی لڑائی کا شور سُن کو اُن کا مالک وہا ں آیا۔اُس نے دونوں کو ڈانٹا اور الگ الگ کیا۔چوہا،کتا اور بلی مالک کے بیچ بچاؤ کرنے سے الگ الگ ہوگئے مگر اُن کے دلوں میں پڑی گرہ نہ نکل سکی۔وہ دن اُن کی دوستی کا آخری دن تھا۔
اُس دن کے بعد سے جب بھی ان کا ایک دوسرے سے آمنا سامنا ہوتا ہے تو کتا فوراََ ہی بلی پر حملہ کردیتا ہے اور وہ بھی جوابی وار کرنے سے باز نہیں آتی۔بلی کو جب بھی کہیں چوہا نظر آتا تو وہ اُسے پکڑنے کے لیے دوڑ پڑتی ہے۔بلی کر ڈر سے چوہے نے بل بنا کر رہنا شروع کردیا اور وہ اپنے بل سے اُسی وقت نکلتا ہے ،جب بلی آس پاس نہ ہو۔
ہڈی کے ایک ٹکڑے اور تین دوستوں کے بیچ ہونے والی غلط فہمیوں نے دوستی کے خوب صورت رشتے کو ختم کر ڈالا۔
فلپائن کی مائیں اپنے بچوں کو آج بھی جب یہ کہانی سناتی ہیں تو انہیں یہ بتانا نہیں بھولتیں کہ دوستی کے رشتے میں خود غرضی ،بے ایمانی اور غلط فہمی کو کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
آپ کا کیا خیال ہے؟

تنہا بندر
بہت دور عین ایک سبز اورنیلے پانیوں والے سمندر کے بیچوں بیچ ایک جزیرہ تھا۔ سورج ہر صبح چمکتا اور اُس جزیرے پر سفید ریت کو چمکاتااور جزیرے کے ارد گرد سمندر کے پانی کو بھی گرم کرتا۔ اِس جزیرے پر ناریل کے درخت لگے ہوئے تھے ،اسکے علاوہ کیلے کے بھی درخت تھے جو کیلوں کے گچھوں سے لدے ہوئے تھے اور س جزیرے پر پتہ ہے کون رہتا تھا؟ صرف ایک چھوٹا سا بھورے رنگ کا بندر جس کی دم بہت لمبی تھی اور اُس میں بل بھی پڑے رہتے تھے۔ 

                                                                                                                                                                                       معصوم سندھو     
بہت دور عین ایک سبز اورنیلے پانیوں والے سمندر کے بیچوں بیچ ایک جزیرہ تھا۔ سورج ہر صبح چمکتا اور اُس جزیرے پر سفید ریت کو چمکاتااور جزیرے کے ارد گرد سمندر کے پانی کو بھی گرم کرتا۔ اِس جزیرے پر ناریل کے درخت لگے ہوئے تھے ،اسکے علاوہ کیلے کے بھی درخت تھے جو کیلوں کے گچھوں سے لدے ہوئے تھے اور س جزیرے پر پتہ ہے کون رہتا تھا؟ صرف ایک چھوٹا سا بھورے رنگ کا بندر جس کی دم بہت لمبی تھی اور اُس میں بل بھی پڑے رہتے تھے۔ 
وہ چھوٹا بندر اکثر ساحل سمندرپر بیٹھ جاتا اور مایوسی میں اونچی آواز میں کہتا؛ ”میں کتنا اکیلا ہوں، کاش میرا بھی کوئی دوست ہوتا ،لیکن وہ جانتا تھا کہ اُسکی آواز سننے والا دور دور تک کوئی نہیں،ایک دن وہ یونہی بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بڑی ہی رنگ برنگی مچھلی نے پانی سے اپنا سر باہر نکالا اور اُس سے کہنے لگی، آؤ میرے پیچھے تیر کر آؤ میں تمہیں ایک ایسے جزیرے میں لے چلتی ہوں جہاں تمہاری طرح کے بہت سے بندر موجود ہیں،اُن کی دُمیں بھی تمہاری طرح کی ہی ہیں“۔ 
بندر افسردگی سے بولا“لیکن مجھے تو تیرنا نہیں آتا ،پیاری مچھلی کیا تم مجھے تیرنا سکھادوگی؟ “ مچھلی بولی”کیوں نہیں تم پانی میں چلنا شروع کرو اور جیسا میں کہتی ہوں، ویسا ہی کرو“ بندر نے اُسکا کہا مانا اور پانی میں اُتر گیا جب پانی گہرا ہوا تو مچھلی کہنے لگی ”اب پانی زمین سے اٹھاؤ اور بازو ہلاؤ“
بندرکی چیخ نکل گئی وہ بولا؛”مجھے یہ کام بالکل پسند نہیں ہے،میں سارا گیلا ہو گیا ہوں“ رنگ برنگی مچھلی کی ہنسی نکل گئی اور وہ تیرتی ہوئی دور نکل گئی جبکہ بندر خشکی پر بیٹھ کر بڑی دیر تک خود کو سُکھاتا رہا۔ قریب ہی ایک سفید بگلا کھڑا تھا،بولا ”آؤ میں تمہیں اُڑنا سکھاتا ہوں ،جلدی کرو میں اُڑنے لگا ہوں“
بندر پھر بے چار گی سے بولا”لیکن میں تو اُڑ نہیں سکتا“بگلے نے اسے کہا؛”سب سے اونچے ناریل کے درخت پر چڑھ جاؤ اور اپنے بازو پھیلا کر چھلانگ لگادو تم اُڑنے لگو گے“بندر نے بگلے کا کہا مانا لینک وہ پورے زور سے سیدھا ریت پر آگرا کچھ ناریل بھی ٹوٹ کر اُس کے سر پر آن گرے۔ بندر نے اِدھر اُدھر بگلے کو دیکھا مگر وہ تو اُڑکر جا چکا تھا۔ 
تبھی بندر کے ذہن میں ایک ترکیب آئی وہ چھلانگ لگا کر خوشی سے اٹھا اور کہنے لگا؛ میں ناریل اور کیلے کے درخت کاٹوں گا اور اُن سے کشتی بناؤں گا، اُس کشتی میں بیٹھ کر دوسرے جزیرے تک جاؤں گا، جہاں مجھے بہت سے دوست مل جائیں گے، تبھی سمندر سے ایک آواز آئی؛ ”یہ بہت ہی احمقانہ ترکیب ہے“ بندر نے دیکھا تو وہ ایک سبز رنگ کا چھوٹا سا کچھوا تھا جو آہستہ آہستہ خشکی سے سمندر کی طرف جا رہا تھا وہ کہنے لگا”اگر تم جزیرے کے درخت کاٹ لو گے تو کھاؤ گے کہا سے؟ اور دوسرے پرندے بھی بھوکے مرجائیں گے۔ 
بندر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ کچھوا بولا”میں تمہیں اپنی پیٹھ پر سوار کرکے وہاں لے جاتا لیکن تم بہت بڑے اور بھاری ہو“ یہ کہہ کر کچھوا سمندر کے پانی میں تیرتا ہوا گم ہوگیا۔ بندر اُس کے جانے کے بعد پھر اکیلارہ گیا۔ وہ اتنا اداس تھا کے رونے لگا۔ 
پھر اچانک سمندر سے ایک بہت بڑا کچھوا نکلا،اُسکا رنگ بھی سبز تھا وہ آہستہ آہستہ چھوٹے بندر کے پاس آیا اور اُسے کہنے لگا؛ آنسو پونچھ لو اور میری پیٹھ پر بیٹھ کر مضبوطی سے مجھے پکڑ لو، اب تم کبھی اکیلے نہیں رہوگے۔ میں تمہیں دوسرے جزیرے تک لے چلتا ہوں“
کچھوے کا خول اِتنا بڑا اور سخت تھا کہ بندر کو اندازاہ ہو گیا تھا کہ وہ محفوظ رہے گا۔ پھر اُس نے کچھوے کی کمر پر بیٹھ کر سمندر میں جھانکا تو اُس نے دیکھا کہ چھوٹا سبز کچھوابھی اُسکے ساتھ تیر رہا ہے۔ 
ننھا کچھوا بولا” مجھے علم تھا کہ میں تمہارا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا ، اِسلئے میں نے دادا جان سے کہا کہ وہ تمہاری مدد کریں وہ بہت عقل مند اور نیک دل ہیں“ 
چھوٹے بندر نے مسکرا کرکہا؛ تم بھی بہت اچھے ہو ،تمہاری مہربانی کا شکریہ اب میں کبھی اکیلا نہیں رہوں گا“
پرندوں کا بادشاہ
کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں پرندے انسانوں سے زیادہ عقل مند ہواکرتے تھے۔ اُنہیں کسی بادشاہ کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی وزیروں کی جو بادشاہ کو مشورے دیتے ،نہ ہی انہیں پرندوں کے کسی ایسے جرگے کی ضرورت تھی ،جو مل بیٹھ کر اُن کیلئے قانون بناتے۔

                                         معصوم سدھو ؛ 
کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں پرندے انسانوں سے زیادہ عقل مند ہواکرتے تھے۔ اُنہیں کسی بادشاہ کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی وزیروں کی جو بادشاہ کو مشورے دیتے ،نہ ہی انہیں پرندوں کے کسی ایسے جرگے کی ضرورت تھی ،جو مل بیٹھ کر اُن کیلئے قانون بناتے۔ اُن دنوں میں جب بھی پرندے اکٹھے ہوتے تو وہ ایک دوسرے سے خوشی خوشی گپیں ہانکتے اور بتاتے کہ کون پیدا ہوا ہے اور کون مرگیا ہے؟ کون سے پرندے کے بچے یتیم ہوگئے ہیں اور وہ قوانین بنانے کی بجائے اہم مسائل ایک دوسرے کو بتا دیتے تھے۔ اُن کا قانون ایک ہی تھا، محبت اور دوستی کا قانون۔ نہ انہیں نفرت کا علم تھا اور نہ غصے کا لیکن پھر ایک مکار اُن کے علاقے میں داخل ہوگیا۔ اُس نے اردگرد جائزہ لیا پرندوں کی خوشیوں کا دشمن تھا۔ اس نے مور سے کہا؛ تم اپنے آپ کو عام سا پرندہ کیوں سمجھتے ہو حالانکہ تم باقی سب پرندوں سے زیادہ خوبصورت ہو۔ “ موڑ اسکی لچھے دار باتوں میں آگیا اور بڑے فخر سے خود کو تالاب کے پانی میں دیکھنے لگا۔ 
پھر وہی شخص عقاب کے پاس گیااور اُسے کہنے لگا“ تم یہ مریل سے پرندے کوئل کو اپنا دوست کیوں سمجھتے ہو، کیا تم باقی سب پرندوں سے زیادہ طاقتور نہیں ہو؟ تم بادلوں سے بھی اوپر اُڑنے والے ہو تم آسانی سے اپنی چونچ سے اسکے ٹکڑے کر سکتے ہو۔ “ عقاب اُسکی باتوں میں آگیا وہ اُڑکر گیا اور اپنی چونچ اور پنجوں سے کوئل کو گھونسلہ تہس نہس کرآیا۔ اِس طرح آہستہ آہستہ وہ مکار پرندوں کے بیچ دشمنی کے بیج بونے میں کامیاب ہوگیا۔ پرندوں کی پُر امن سلطنت جنگ کا میدان بن گئی۔ پرندے ایک دوسرے سے لڑنے اور گالیاں دینے لگے۔ آخر کار طاقتور پرندے کمزور پرندوں کو شکار کرنے لگے۔ ہر کوئی اپنی طاقت پر ناز کرنے لگا اور کمزوروں کو برا بھلا کہنے لگا۔ ایک دن ایک ننھے سے پرندے نے سب چھوٹے پرندوں سے کہا؛ ”ہم اس طرح زندگی نہیں گزار سکتے۔“ وہ سبھی عقاب کے پاس چلے گئے اور اُسے کہا؛ ”ہمیں انصاف چاہیے، آپ سب سے طاقتور پرندے ہو بہتر ہو سب پر حکومت کریں تاکہ کوئی کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرسکے۔ “عقاب خوشامد پسند تھا، فوراََ مان گیا لیکن پرندوں کے جانے کے بعد وہی مکا ر عقاب کے پاس آیا اور اُسے کہا؛ ” بادشاہ تو ہوتے ہی عوام سے خدمت کرانے کیلئے ہیں، تمہارے پاس وقت کہا ں کہ تم اُن احمقانہ لڑائیوں میں صلح کرواتے پھرو بہترہے تم اُلو کو انکا بادشاہ بنادو۔ اُس کی آنکھیں قیمتی پتھروں جیسی ہوتی ہیں، وہ صرف رات کو دیکھ سکتا ہے اور جب روشنی میں دوسرے پرندے ہواؤں میں پرواز کرتے ہیں تو وہ کچھ نہیں دیکھا سکتا۔ اسلئے وہ کسی کے معاملے میں دخل نہیں دے گا اور ہر کوئی وہی کرے جو اُس کا دل چاہے گا۔“ عقاب کر یہ ترکیب بہت اچھی لگی، اُس نے اُلو کو پرندوں کا بادشاہ بنا دیا۔ اُلو دن کو سویا رہتا ہے اور رات کو جاگتا ہے جب باقی پرندے مزے سے اپنے گھونسلوں میں سوئے ہوتے ہیں تبھی تو آج تک وہ پرانے امن والے دن پرندوں کی سلطنت میں نہیں لوٹے اور وہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔
ہاتھی اور بندر میں ہوگئی لڑائی
ارے ، ارے اب کیا ہوگا؟ سب کی زبان سے یہی الفاظ نکل رہے تھے۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ بندر صبح درخت پہ بیٹھا مزے سے کیلا نوش کررہا تھا کہ اچانک اس نے سست طریقے سے چلتے ہاتھی کو دیکھا تو اس کو شرارت سوجھی۔۔۔

                                                                                                                 معصوم  سدھو  
ارے ، ارے اب کیا ہوگا؟ سب کی زبان سے یہی الفاظ نکل رہے تھے۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ بندر صبح درخت پہ بیٹھا مزے سے کیلا نوش کررہا تھا کہ اچانک اس نے سست طریقے سے چلتے ہاتھی کو دیکھا تو اس کو شرارت سوجھی اور جب ہاتھی اس درخت کے نیچے سے گزررہاتھا تو اس نے کیلے کا چھلکا اس کے پاؤں کے قریب پھینک دیا۔ جس سے ہاتھی پھسلتے پھسلتے بچ گیا اور جب اُوپر بندر کو دیکھا تو غصے سے سونڈ لہرائی اور زور سے درخت پر ماری۔ بندر کی جرأت نہ پڑی کہ دوسرے درخت پہ چھلانگ لگاسکے اور دوسری مسئلہ یہ کہ درخت بھی کچھ فاصلے پر تھا اور جب ہاتھی نے اپنے پاؤں سے درخت کو جھٹکا دیا تو شرارتی بندر کوجان کے لالے پڑ گئے اس کو لگ رہا تھا ہاتھی درخت اکھاڑ کر اپنے پاؤں سے تلے مسل دے گا۔ اب اس نے چیخ وپکار شروع کردی کیونکہ ہاتھی کسی طرح وہاں سے جانے کو تیار نہ تھا۔ اس نے اپنے تمام دوستوں کو آوازیں دیں وہ سب اکٹھے ہوگئے وہ خود بھی ہاتھی کے قریب جانے سے ڈر رہے تھے کیونکہ ہاتھی کا غصہ عروج پر تھا۔ درخت کی شاخیں ٹوٹ چکی تھیں۔ بندر خوفزدہ چلاتا اُوپر والی ٹہنی سے چمٹا ہوا تھا اور بچاؤ، بچاؤ کی آواز لگا رہا تھا۔ آج تو جنگل کا بادشاہ شیر بھی دوسرے جنگل کی سیر کیلئے گیا ہوا تھا۔ اب شدید کوئی بھی اس کو ہاتھی کے خطرناک تیورسے بچا نہیں سکتا تھا۔
ہاتھی دراصل بندر کو اس کی شرارتوں اور فضول حرکتوں کا آج مزہ سکھانا چاہتا تھا۔ لومڑی کے ذہن میں اچانک اس مسئلے کا حل آیا وہ فوراََ سب جانوروں کے پاس گئی اور بتایا کہ اس صورتحال پرکیسے قابو پایا جا سکتا ہے اور بندر کی جان خلاصی کروائی جاسکتی ہے۔ اگر بھالو جا کر اس سے بات کرے تو وہ ضرور اس کو بات مان جائے گا کیونکہ وہ اچھے دوست ہیں اور امید ہے کہ ہاتھی اس کی بات نہیں ٹالے گا۔
سب اس کی بات پر متفق ہوئے اور بھالو سے کہا کہ اس موقع پر بندر کی مدد کرے اور اس کو ہاتھی سے معافی دلوادے۔ بھالوسرہلاتا درخت کی طرف بڑھا جس کی صرف ایک دو شاخیں ہی رہ گئی تھی اور بندر کو اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی۔ بھالو ہاتھی کے قریب آیا اور اس کی منت سماجت کی اور یقین دلایا کہ آئندہ بندر ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا۔ اب تم غصہ ختم کردو اور اس کو وہاں سے ہٹاکردوسری طرف لے گیا اور بندرسے کہا نیچے اترو اور اپنی شرارت کی معافی مانگو اور وعدہ کرو کہ آج کے بعد کسی کو تنگ نہیں کرو گے۔ وہ ڈرتے ڈرتے پھولی سانس کے ساتھ نیچے اتر اور بھالو کے پیچھے جاچھپا اور ہاتھی سے کپکپاتی آواز سے معافی مانگی توہاتھ دینے فوراََ ہی اسے معاف کردیا۔
میرا بہترین دوست
ہمارے ٹیچر ، مشتاق نامی لڑکے سے بے حدبیزار تھے۔ مشتاق کاکمال یہ تھا کہ ٹیچر اسے جو بھی مضمون لکھنے کوکہتے وہ کسی نہ کسی طرح اس مضمون میں ” میرا بہترین دوست“ ضرور فٹ کردیتا، کیوں کہ یہ وہ واحد مضمون تھا جو اسے فرفریاد تھا۔

تحریم خان: 
ہمارے ٹیچر ، مشتاق نامی لڑکے سے بے حدبیزار تھے۔ مشتاق کاکمال یہ تھا کہ ٹیچر اسے جو بھی مضمون لکھنے کوکہتے وہ کسی نہ کسی طرح اس مضمون میں ” میرا بہترین دوست“ ضرور فٹ کردیتا، کیوں کہ یہ وہ واحد مضمون تھا جو اسے فرفریاد تھا۔ مثلاََ اس سے اگر کہا جاتا کہ ’ ریلوے اسٹیشن“ پر مضمون لکھو تو وہ کچھ اس طرح سے شروع ہوتا: میں اور میرا باپ” چیچوں کی ملیاں“ جانے کے لیے ریلوے اسٹیشن گئے۔ وہاں گاڑی کھڑی تھی اور گاڑی میں میرا بہترین دوست غلام رسول بیٹھا ہوا تھا۔ غلام رسول بہت اچھا لڑکا ہے، غلام رسول․․․․․․“
اگر اسے” میرا پسندیدہ استاد‘ ‘ پر مضمون لکھنے کو کہا جاتا تو وہ کچھ یوں شروع ہوتا: ماسٹر افتخار میرے پسندیدہ استاد ہیں۔ ایک روز میں ان کے گھر گیا۔ وہاں میرا بہترین دوست غلام رسول بیٹھا ہوا تھا۔ غلام رسول میراکلاس فیلو ہے۔ اس کے تین بہن بھائی ہیں۔ اس کا باپ محکمہ پولیس میں․․․․․․ اور غلام رسول․․․ وغیرہ وغیرہ۔
ظاہر ہے ب کبھی” ایک کرکٹ میچ“ یا” ایک پکنک“ کی باری آتی تو غلام رسول وہاں بھی موجود ہوتا۔ ایک روز ماسٹر صاحب نے تنگ آکر کہا۔
دیکھو مشتاق! یہ تو ہوہی نہیں سکتا کہ ہر جگہ تمھارا بہترین دوست غلام رسول موجود ہو۔ آج تم ہوائی جہاز پر مضمون لکھواور یاد رکھنا کہ غلام رسول ہوائی جہاز میں دوسرے روز مشتاق ”ہوائی جہاز کا سفر“ پر جو مضمون لکھ کر لایاوہ کچھ اس طرح کا میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ائیرپورٹ گیا۔ وہاں جہاز کھڑا تھا۔ جہاز کے پر تھے۔ ہم اس میں بیٹھ گئے۔ جہاز میں غلام رسول نہیں تھا۔ پھر جہاز اڑنے لگا۔میں نے کھڑکی سے نیچے جھانکا تو میں نے دیکھا کہ زمین پرمیرا بہترین دوست غلام رسول جارہاہے۔ غلام رسول میرا کلاس فیلو ہے۔ اس کے تین بھائی ہیں۔ اس کاباپ محکمہ پولیس․․․․․․․ اور غلام رسول․․․․․․ غلام رسول․․․․ ماسٹر صاحب نے یہ مضمون پڑھ کر مولا بخش پکڑلیا اور مشتاق غریب کا بُرا حال کردیا۔
معصوم مجرم
مجھے جنگل میں چھپے آج پانچواں دن تھا۔ پانچ دن سے میں جنگلی پھلوں اور درختوں کے پتے کھا کرزندہ تھا۔ ویسے میری جیب میں نوٹوں کی ایک گڈی بھی تھی ، مگر اس جنگل بیاباں میں وہ رپے میرے لیے ردی کاغذوں کاس ایک ڈھیر کی طرح تھے۔

                                                                                                                           : معصوم سندھو  
مجھے جنگل میں چھپے آج پانچواں دن تھا۔ پانچ دن سے میں جنگلی پھلوں اور درختوں کے پتے کھا کرزندہ تھا۔ ویسے میری جیب میں نوٹوں کی ایک گڈی بھی تھی ، مگر اس جنگل بیاباں میں وہ رپے میرے لیے ردی کاغذوں کاس ایک ڈھیر کی طرح تھے۔ خودروجھاڑیوں میں چھپے ایک بڑے درخت کے کھوکھلے تنے کو میں نے اپنا ٹھکانا بنالیا تھا۔ سخت زمین پر نرم شاکوں اور پتوں کو بچھا کر بستر سابنالیا تھا، جہاں میں چھپا رہتا۔ جب بھوک لگتی تو باہر نکلتا، ذرا کھٹکاہوتا تو بھاگ کر اپنی پناہ گاہ میں چھپ جاتا۔
پانچ دن پہلے رونما ہونے والا وہ خوفناک واقعہ بار بار میری آنکھوں کے سامنے اُبھرتا، جب میرے ہاتھوں ایک انسان کا قتل ہوگیا تھا۔
وہ ایک روشن صبح تھی جب جان پہچان کاایک شخص میرے پاس آیا اور درخواست کی کہ میں اس کے ساتھ چلوں۔ اس نے بتایا کہ ایک لفنگا اسے تنگ کرتا ہے اور اس رقم مانگتا ہے۔ میں چوں کہ اچھے قد کاٹھ تھا اور تن سازی بھی کرتا تھا۔ علاقے میں میرادبدبا بھی تھا، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ میں اس کے ساتھ جاکر اس لفنگے کو ذرا ڈرا دھمکادوں۔ مجھے چوں کہ اپنی دھاک بٹھانے کاایک موقع مل رہاتھا، اس لیے میں اس کے ساتھ چل پڑا۔
اس نے مجھے ایک پستول بھی دیااور کہا: یہ صرف اسے ڈرانے کے لیے ہے۔ ہم اسی وقت وہاں پہنچ گئے۔ وہ شخص ایک زیرزمین تہ خانے میں بیٹھاتھا۔ میں نے اس سے بات کی تو اس نے ذرا کٹر دکھائی۔ چنانچہ میں نے اسے ڈرانے کے لیے پستول نکال لیا۔ ہم میں ہاتھا پائی ہوئی۔ اسی دوران اچانک گولی چل گئی۔ وہ شخص خون میں لت پت گرپڑا، جو شخص مجھے لے کر آیاتھا، بولا: یہ کیاکردیاتم نے میں نے توصرف ڈرانے کے لیے کہاتھا، تم نے اسے جان سے مارڈالا۔
اس نے مجھے سے پستول لے لیا اور کہا: جلدی یہاں سے بھاگ جاؤ پکڑے گئے تو پھانسی چڑھ جاؤ گے۔
میں وہاں سے بھاگنے لگاتواس نے نوٹوں کی ایک گڈی مجھے تھمادی، ساتھ ہی پستول دے کرکہا: اسے کسی ویران جگہ پھینک دینا۔
میں وہاں سے نکلا تو سخت گھبرایا ہوا تھا۔ سوچ رہاتھا کہ کہاں جاؤں ۔ گھر گیا تو پولیس پکڑلے گی۔ رشتے داروں کے ہاں سے بھی ڈھونڈنکالے گی۔ پھر میں نے جنگل میں چھپنے کافیصلہ کرلیا۔ پستول کو میں نے جھاڑیوں میں پھینک دیا۔ جنگل میں تھوڑی سی تلاش کے بعد مجھے درختوں اور جھاڑیوں میں چھپی یہ کھوہ مل گئی اور میں یہاں چھپ گیا۔ بھوک لگتی تو جنگلی پھل یاپتے کھالیتا۔ قریب ہی ندی بہ رہی تھی، وہاں پیاس بجھا لیتا۔
پانچ دن اور گزرگئے۔ ان دس دنوں میں مجھے کوی انسانی شکل نظر نہ آئی تھی۔ تنہائی کاٹنے کو دوڑتی۔ جرم کا احساس الگ جان کھاتا۔ ہر وقت پکڑنے جانے کا ڈرسا لگارہتا۔ اتفاق سے ابھی کسی بڑے درندے سے میرا سامنا نہیں ہواتھا۔ یہ خدشہ بھی ایک دن سامنے آہی گیا۔ میں اپنی پناہ گاہ میں بیٹھا تھا کہ ایک سیاہ چیز کو ادھر آتے دیکھا۔ یہ ایک بڑا کالا ریچھ تھا، جو میری بوسونگتا ادھیر چلاآرہاتھا۔ میں نے اپنی حفاظت کے لیے کچھ پتھر ریچھ کی تھوتھنی پردے مارا۔ تھوتھنی پر لگی ہوئی چوٹ اور میری خوفناک چیخ سے گھبرا کرریچھ غراتا ہوا واپس بھاگ گیا۔
ریچھ تو بھاگ گیا، مگر مجھے ڈرکالگ گیا کہ ریچھ کو میری موجودگی کا پتا چل گیا ہے۔ وہ اپنی چوٹ کا بدلہ لینے ضرورآئے گا۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ کوئی اور ٹھکانا ڈھونڈا جائے۔ میں کھوہ سے نکلا اور کوئی دوسرا ٹھکانا ڈھونڈنے لگا۔ ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ کچھ آہٹیں سنائی دیں۔ کچھ لوگ ادر آرہے تھے۔ مجھے لگا جیسے وہ میری تلاش میں ہی آرہے ہیں۔ میں بھاگا اور اپنی پناہ گاہ میں آکر چھپ گیا۔ پھر آہٹیں اور آوازیں واضح ہونے لگیں۔ ایک کتے کے بھونکنے کی آواز بھی آئی۔ وہ سدھائے ہوئے کتے کولے کر میری تلاش میں آئے تھے۔ پھرکسی نے کہا: وہ یہیں ہے۔ اس کے قدموں کے نشان ہیں یہاں۔ کھوجی کتا بھی جھنڈے کے پاس آکے بھونکنے لگا۔
تم پولیس کے گھیرے میں آچکے ہو، بالکل نکل آؤ۔ ایک آواز آئی۔
اب چھپے رہنا بے کار تھا۔ میں نہتا تھا اور ان کے گھیرے میں آچکا تھا۔ میں زینگتا ہوا کھوہ سے باہر نکل آیا۔
آؤآؤ۔ پولیس کی وردی پہنے ایک افسر نے نرمی سے کہا۔ کتے کے علاوہ وہ چارآدمی تھے۔ مجھے گھیرے میں لے کر وہ چل پڑے۔
میرا اسے جان سے مارنے کاارادہ نہیں تھا۔ گولی اتفاقاََ چل گئی۔ میں نے اپنی صفائی میں کہا۔
پولیس انسپکٹر نے میری طرف دیکھااور کہا: کچھ فکرنہ کرو، اصل مجرم گرفتار ہوچکا ہے اور اس نے اقرار جرم کرلیا ہے۔
لیکن پستول تو میرے ہاتھ میں تھا۔ میں نے حیرت سے کہا۔
ایک پستول مجرم کے پاس بھی تھا۔ جب تمھاری مقتول سے ہاتھا پائی ہوئی تو اس نے پیچھے سے اسے گولی ماردی۔ اس کی مقتول سے دشمنی تھی۔ اس نے سازش کی اور تمھیں ساتھ ملایا تھا، تاکہ اپنا جرم تمھارے سرتھوپ دے۔
مگر آپ اس تک کیسے پہنچے؟ میں نے الجھ کرکہا۔
مقتول کے موبائل ڈیٹا سے مجرم کامقتول سے موبائل پررابطہ ہواتھا۔ مجرم کا کہنا تھا کہ وہ بیچ بچاؤ کرارہا تھا مگر تمھارے پھینکے ہوئے پستول نے اس کابھانڈا پھوڑدیا، کیوں کہ جب جھاڑیوں سے ہمیں وہ پستول ملاتو اس پردومختلف ہاتھوں کی انگلیوں کے نشان مٹانا بھول گیا۔ جب ہم نے سختی کی تو اس نے بیچ اگل دیا۔
شکر ہے خدایا۔ میں نے ایک لمبی سانس لے کرکہا۔
اس آزمائش سے تم نے کیاسیکھا؟ انسپکٹر نے پوچھا۔
یہ کہ اپنی طاقت پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور․․․․․․ اور سوچ سمجھ کر کسی پر اعتبار کرنا چاہیے۔ انسپکٹر نے بات مکمل کردی۔
چالاک ہرن اور چیتا
چالاک ہرن نہ صرف اپنی پھرتی اورتیزی کی وجہ سے جنگل میں مشہور تھا بلکہ اپنے نام کی طرح بے حد چالاک بھی تھا۔ ایک دن وہ جنگل میں مزیدار پھلوں اور دوسری کھانے پینے کی چیزوں کے لے ے گھوم رہا تھا۔ اگر چہ وہ بہت چھوٹا تھا مگر وہ بالکل بھی خوفزدہ نہیں تھا۔ اسے پتہ تھا کہ بہت سے بڑے بڑے جانور اسے اپنی خوراک بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے لے ے انہیں چالاک ہرن کو پکڑنا ہوگا جو قطعی نا ممکن تھا۔اچانک چالاک ہرن کو کسی کے دہاڑنے کی آواز آئی۔ وہ یقینا ایک چیتا تھا۔
معصوم سندھو 

چالاک ہرن نہ صرف اپنی پھرتی اورتیزی کی وجہ سے جنگل میں مشہور تھا بلکہ اپنے نام کی طرح بے حد چالاک بھی تھا۔ ایک دن وہ جنگل میں مزیدار پھلوں اور دوسری کھانے پینے کی چیزوں کے لے ے گھوم رہا تھا۔ اگر چہ وہ بہت چھوٹا تھا مگر وہ بالکل بھی خوفزدہ نہیں تھا۔ اسے پتہ تھا کہ بہت سے بڑے بڑے جانور اسے اپنی خوراک بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے لے ے انہیں چالاک ہرن کو پکڑنا ہوگا جو قطعی نا ممکن تھا۔اچانک چالاک ہرن کو کسی کے دہاڑنے کی آواز آئی۔ وہ یقینا ایک چیتا تھا۔
چالاک ہرن کیسے ہو تم؟ میں بہت بھوکا ہوں۔ میرے لے ے کچھ کرو۔ دیکھو اگر تم چاہو تو میرے دو پہر کا کھانا بن سکتے ہو۔ لیکن چالاک ہرن بالکل چیتے کا کھانا نہیں بننا چاہتا تھا۔ آخر اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی اور اپنے ذہن سے کوئی ترکیب سوچنے لگا۔ اس نے ایک کیچڑ کا ڈھیر پڑا دیکھا لیکن چیتے میں تمہارے لے ے کچھ نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ یہ آج بادشاہ کا کھاناہے اور اس کی حفاظت کررہا ہوں۔
 یہ کیچڑ۔“ چیتے نے حیرانی سے کہا۔
 ہاں یہ ہی ہے بادشاہ کا کھانا۔ “ چالاک ہرن نے کیچڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اور تمہیں کیا پتہ کہ اس کا ذائقہ دنیا بھر میں سب سے اچھا ہوتا ہے ۔ بادشاہ ہر گز نہیں چاہتا کہ کوئی اور اسے کھائے ۔“
چالاک ہرن کی یہ باتیں سن کر پہلے تو چیتا دیر تک اس کیچڑ کو تکتا رہا۔ پھر بولا۔ ”میں بادشاہ کے اس کھانے کو چکھنا چاہتا ہوں۔
”نہیں نہیں چیتے ۔ بادشاہ سلامت بہت غصہ ہوں گے ۔
”لیکن صرف تھوڑا سا چکھوں گا۔ بادشاہ کو اس کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔
”اچھا تو پھر ایسا کرو کہ مجھے یہاں سے بہت دور جانے دو تاکہ کوئی مجھ پر الزام نہ لگا سکے
vٹھیک ہے چالاک ہرن تم یہاں سے جاسکتے ہو۔“چیتے کا اتنا کہنا تھا کہ چالاک ہرن نے وہاں سے دوڑ لگا دی اور یہ جا وہ جا۔ اس کے بعد جب چیتے نے وہ مٹی سے بھرا کیچڑ چکھا تو آخ تھو کرتا رہ گیا۔ اسے چالاک ہرن کی یہ حرکت بہت بری لگی۔ اس نے اسے سزا دینے کافیصلہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر چہ چالاک ہرن بہت تیز دوڑتا ہے مگر اس کی رفتار اس سے زیادہ ہے ۔ یہ سوچ کر اس نے پھر چالاک ہرن کا پیچھا کیا۔ بالآخر اس نے چالاک ہرن کو جالیا۔
چالاک ہرن تم نے ایک بار پھر مجھے دھوکہ دیا ہے ۔ اب تمہیں میرا کھانا بننا پڑے گا۔“
اب چالاک ہرن نے دوبارہ ادھر ادھر دیکھا۔ اسے ایک شہد کاچھتہ نظر آیا۔ اس نے کہا۔ مگر چیتے میں آج تمہارا کھانا نہیں بن سکتا کیوں بادشاہ نے مجھے اس ڈھول کی حفاظت کرنے کا کہا ہے ۔“
”بادشاہ کا ڈھول ؟ مگر کہاں ہے ؟ چیتے نے حیرانی سے پوچھا۔
”یہ رہا۔ چالاک ہرن نے شہد کے چھتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اس ڈھول کی آواز پوری دنیا میں سب سے اچھی ہے ۔ بادشاہ ہرگز نہیں چاہتا کہ کوئی اس کی آواز سنے ۔
پھر چیتے نے کہا۔ لیکن میں اس بادشاہ کے ڈھول کو بجا کر دیکھنا چاہتا ہوں۔
 نہیں نہیں چیتے ۔ بادشاہ بہت غصہ ہوں گے ۔
 صرف ایک چھوٹی سی ضرب۔ صرف ایک مرتبہ جس کا بادشاہ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔
اچھا تو پھر مجھے یہاں سے بھاگنے دو تاکہ مجھے پر الزام نہ آسکے۔“
 ٹھیک ہے چالاک ہرن تم بھاگ سکتے ہو۔
اب تو چالاک ہرن فوراً رفو چکر ہوگیا۔
 واہ بھئی ۔ بادشاہ کا ڈھول کتنا اچھا ہے ۔ چیتے نے اتنا کہا اور درخت پر چڑھ کر اسے ہاتھ سے ایک ضرب لگائی۔
 بز زززز۔ اب کیا تھا۔ ساری شہد کی مکھیاں باہر نکل آئیں اور چیتے کو کاٹنا شروع کردیا۔ اس نے درد سے چیخنا شروع کردیا۔ کسی طرح جلدی سے درخت سے نیچے اترا اور ایک تالاب میں کود کر جان بچائی۔
اب تو چیتا غصہ میں بھرا ہوا تھا۔ وہ ہر قیمت پر چالاک ہرن کو سبق سکھانا چاہتا تھا۔ اس نے پھردوڑ لگائی اورتیزی
سے چالاک ہرن کا پیچھا کرتے ہوئے اس جالیا۔
 چالاک ہرن تم نے دو مرتبہ مجھے دھوکہ دیا۔ لیکن اب تمہیں میرا کھانا بننا پڑے گا۔ چیتے نے غصے میں کہا۔
چالاک ہرن نے پھر ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ اسے ایک بڑا سا اژدھا نظر آیا۔ وہ اپنا جسم لپیٹ کر مزے سے سورہا تھا۔
”نہیں نہیں چیتے ۔ میں تمہارا کھانا نہیں بن سکتا کیوں کہ بادشاہ نے مجھے اپنے بیلٹ کی حفاظت کرنے کو کہا ہے ۔
یلٹ! کہاں ہے بادشاہ کی بیلٹ؟ چیتے نے حیران ہو کر سر گھمایا۔
” وہ رہی۔ چالاک ہرن نے اژدھے کی جانب اشارہ کیا۔ اس کا رنگ برنگا جسم دیکھ کر چیتا بہت متاثر ہوا۔
”دیکھو چالاک ہرن کیا میں یہ بیلٹ پہن کر دیکھ سکتا ہوں؟“
”نہیں نہیں۔ اگربادشاہ سلامت کو پتہ چل گیا کہ ان کی بیلٹ کسی اور نے پہنی ہے تو وہ بہت غصہ ہوں گے ۔“
”صرف ایک بار۔“
”اچھا تو پھر مجھے بھاگنے دو تاکہ مجھ پر الزام نہ آسکے ۔“
چیتے نے پھر ہر مرتبہ کی طرح اسے بھاگنے کی اجازت دے دی۔
 ارے واہ بادشاہ کی بیلٹ۔چیتے نے یہ کہا اور لپک کر اژدھے کو اٹھالیا۔ ابھی اس نے کھڑے ہو کر بڑے فخر سے وہ بیلٹ اپنی کمر میں لپیٹی۔ اژدھا پہلے تو سمجھ نہ سکا کہ یہ کیا ہورہا ہے ۔ پھر اچانک اس نے بڑا سا منہ کھولا۔ چیتا اتنے بڑے اژدھے کودیکھ کر ڈر گیا اور وہاں سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد کبھی چیتے نے ہرن کی طرف بھوکی نظروں سے دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔

Copyright © 2013 MaSooM Studios